کامیابی آپ کی منتظر

March 16, 2022 2 years ago 3 Comments

کیا زمانہ اب تبدیل ہو گیا ہے، یا سورج مدھم پڑ گیا ہے، کیا زمین ہم پر تنگ ہو گئ ہے، یا قانونِ الٰہی بدل گیا ہے، کیا ہم بھی ان کی طرح انسان نہیں، یا ان کو ہم سے زیادہ وسائل میسر تھے، کیا ان کے پاس اَلہ دین کا چراغ تھا، یا ان کو عمرِ نوح ملی تھی؟

 

نہ تو وہ کوئی ماورائی مخلوق تھے، نہ ہی وہ کوئی الیکٹرانک روبوٹ( Electronic Robot) تھے نہ ہی ان کے چار ہاتھ اور دو دماغ تھے۔ اگر معاملہ اس طرح نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے،توپھر کیا وجہ تھی کہ علامہ ابن جوزی نے لڑکپن میں ہی 20.000 ہزار کتابوں کے مطالعہ سے علمی پیاس بجھائی، کس طرح شیخ زکریا نے چالیس سال ماہِ رمضان میں روزانہ ایک قرآن کے ختم کا معمول بنایا، کس دماغ سے شعیب فانی نے زمانہ طالب علمی کے پہلے سال ہی سات سو کتابوں کا مطالعہ کر لیا،

کیا وجہ تھی کہ ابنِ جریر طبری نے چالیس سال میں ایک لاکھ  ستر ہزار صفحات کو اپنے علم کی روشنائی سے رنگین کیا، کس طرح ابنِ شاہین نے تفسیرِ قرآن سے ایک ہزار جلدیں روشن کیں، کس قوت نے امام الادب مولانا اعزاز علی کو مسلسل سات، سات دن تک کتابوں پر سایہ فگن رکھا، نہ دن کو سوتے نہ رات کو، کس طرح علامہ تفتازانی کی تصنیفات ان کی عمر کے سالوں سے سبقت کر گئیں، کیا راز تھا کہ امامِ انقلاب عبید اللہ سندھی نے صرف دو گھنٹے میں مکمل سراجی پڑھ لی، آخر کس طرح ہشام کلبی نے صرف تین دن میں مکمل قرآن حفظ کر لیا؟

 

نہ تو ان کے پاس برق رفتار سواریاں تھیں اور نہ ہی کاغذ کی فراوانی۔ اگر ان کے پاس آج کے تیز طرار قلم ہوتے تو آدھ سطر لکھنے کے بعد دوات میں نہ ڈبوتے، یا وقت کی اہمیت ان کے سینوں میں موجزن نہ ہوتی تو روٹی چھوڑ کر ستو نہ پھانکتے، اگر روشنیوں کے سمندر ان کو میسر ہوتے تو حکومتی چراغوں کے محتاج نہ ہوتے۔

 

وہ اندھیرا ہی بھلا تھا جو قدم راہ پہ تھے

روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور مجھے

آخر کیا وجہ تھی کہ وہ کامیابیوں کے آسمانوں پر، اور ہم ناکامیوں کی کھائیوں میں، وہ عظمتوں اور رفعتوں کے محلات میں اور ہم نامرادیوں اور پستیوں کے جھونپڑوں میں، ناکامی نام کا لفظ ان کی ڈکشنری (Dictionary ) میں بھی نہیں اور ہمارے پیچھے سایہ کی طرح پڑی ہے، صدیوں بعد بھی ان کا نام زندہ اور ہمیں آج کوئی پوچھتا نہیں، آخر کیوں۔۔۔۔؟

 

کیوں آج ابو حنیفہ پیدا نہیں ہوتے، کیا وجہ ہے کہ غزالی کی تلقین ناپید ہے، رازی کا فلسفہ کہاں کھو گیا ہے، کیوں شاہ ولی اللہ کی سیاست کا فقدان ہے، غزنوی کیوں نہیں بت توڑتے، محمد علی قیادت کے لیے کیوں تیار نہیں ہورہے؟

 

کیا اس میں را( Raw ) ملوث ہے، یا یہ بھی حکومتِ وقت کی نااہلی ہے، کہیں یہ بیرونی طاقتوں کی سازش تو نہیں، یا پھر اس کا زمہ دار بھی امریکہ ہے، ممکن ہے یہ اسرائیل کی پلاننگ ہو۔ کیا یہی حقیقت ہے ۔۔۔۔۔؟ اگر نہیں، اور یقیناً نہیں۔

 

اس تضاد اور فرق کا سبب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہدایت و رہنمائی کتابِ مبین ہمیں اللہ کا ضابطہ و قانون بتلا رہی ہے ( لئن شكرتم لأزيدنّكم ولَئِن كَفرتُم إنّ عذابِى لَشدِيد ) کہ نعمت کی قدر کرنے سے نعمت بڑھتی ہے اور ناقدری پر نعمت کے زوال کے ساتھ اللہ کے عذاب کا بھی خطرہ ہے۔

 

اسلاف نے کائنات کی عظیم ترین نعمت " وقت " کی قدر کی، کامیابیوں اور فتوحات کا تاج ان کے سر پہ سجا، ہم نے لغویات کے صحرا میں" وقت " کو بہا دیا ناکامیاں اور شکستیں ہمارے گلے کا پھندا بنیں، انہیں علم و ہنر سے شغف تھا ہمیں گیمز ( Games )، موویز ( Movies ) اور فیس بک ( Facebook ) سے فرصت نہیں، انہوں نے عمرِ عزیز کی ہیرے جواہرات سے زیادہ قدر کی، ہمیں فراغت و صحت نے دھوکہ میں رکھا، انہوں نے اپنا ٹائم ٹیبل ( Time Table ) پانچ نمازوں سے اخذ کیا، ہم نے خود کو سورج کی طرح مغربی تہذیب میں ڈبو دیا۔ ہم نے اکابر کے طرزِ عمل کو سزائے موت دی اور فرنگی کے کلچر کا میلاد منایا۔

 

دنیا میں جتنے لوگ بھی آسمانِ شہرت کے ستارے بنے انہوں نے وقت کی قدر کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ وقت کی ناقدری کی وجہ سے آج ہم اقوامِ عالم سے صدیوں پیچھے ہیں۔ اب صرف ہمارے پاس حال ہے، ماضی مر گیا، مستقبل کا بھروسہ نہیں، لہذا ابھی سے پختہ عزم کریں اور وقت کی قدر کریں اور لغویات و فضولیات سے اعراض کر کے فلاح پانے والے مومن بنیں۔

 

 

 

تحریر:   اِبنُ السیف

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs